ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حوثیوں کے راکٹ بحری تجارتی قافلوں کیلئے خطرہ قرار

حوثیوں کے راکٹ بحری تجارتی قافلوں کیلئے خطرہ قرار

Tue, 11 Oct 2016 16:04:05    S.O. News Service

لندن،11؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)یمن کیحوثی باغیوں کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے ایک بحری جہاز اور امریکی بحری بیڑے پر راکٹ حملوں کے بعد بحری تجارتی قافلوں کے انشورینس سیکٹر نے خبردار کیا ہے کہ یمنی باغی تجارتی قافلوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس آبی تجارتی قافلوں اور بحری جہازوں کی انشورینس کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ یمنی حوثی باغیوں کے راکٹ مال بردار اور تیل بردار بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں کیونکہ یمن کے ساحل کے قریب بحری تجارتی قافلوں کا بہت رش رہتا ہے۔ یمنی باغیوں کی طرف سے راکٹ حملے نہ صرف تیل لے جانے والے جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں بلکہ دیگر تجارتی سامان کی منتقلی میں بھی رکاوٹیں کھڑی کرسکتے ہیں۔اگرچہ حوثی باغیوں کے راکٹ حملوں کے خطرات موجود ہیں مگر بحری تجارتی کمپنیوں نے اپنا روٹ تبدیل نہیں کیا ہے۔ یمن کے ساحل سے گذرنے والی آبی ٹریفک کو باغیوں کے راکٹوں سے خطرات کا پہلے بھی اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ یمن کے تجارتی بحری روٹ کو بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں میں بحری جہازوں کے کینٹنروں کی کمپنی میرسک، ناروے کی تیل لے جانے والے جہازوں کی بڑی فرم فرنٹ لائن یمنی تجارتی راستے کو استعمال کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایرانی بحری جہاز بھی اسی راستے سے گذر رہے ہیں۔بحری جہازوں کی انشورینس کرنے والی کمپنیوں کے ایک ذمہ دار ذریعے کا کہنا ہے کہ یمنی کی بعض بندرگاہوں کی طرف آنے والے کئی بحری جہازوں کی انتظامیہ نے اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کردیا ہیتاکہ یمن میں جاری کشیدگی کے دوران انٹرنیٹ کی مدد سے جہازوں کی نقل وحرکت کی نشاندہی نہ کی جاسکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے اندر جاری شورش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات کے باعث یمن کی الحدیدہ جیسی اہم بندرگاہ پرآنے والے جہازوں کی انشورینس ریٹس ہزاروں ڈالر کے حساب سے بڑھا دیے ہیں۔خیال رہے کہ تجارتی انشورینس کمپنیوں کی طرف سے یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ دوسری جانب یمنی باغیوں نے دو روز قبل ہی ایک امریکی بحری بیڑے پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔ مگر اس حملے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔


Share: